حضرت خواجہ حسن نظامی ایک انتہائ بلند روحانی پیشوا ہونے کے ساتھ ساتھ ایک نہائت بلند پایہ ادیب بھی تھے۔ اردو نثر نگاری میں وہ خاص رنگ کے موجد تھے جن کی نقل آج تک کوئ نہیں کر سکا۔
1947 کے لگ بھگ وہ حیدرآباد منتقل ہوگئے تھے۔ حضرت قبلہ ابو طالب جو اب خواجہ حسن نظامی ہیں مدرسہ فوقانیہ مشقی خیریت
اباد میں جماعت ہفتم میں داخل ہوے تھے۔ میں بھی جماعت ہفتم ہی کا طالب علم تھا، اس طرح حضرت قبلہ کا ہم جماعت ہونے کا مجھے شرف حاصل ہے۔
حضرت خواجہ حسن نظامی نے اپنی تصنیفات کے علاوہ اور بہت سے ادیبوں کی عمدہ کتابیں شایع کی تھیں۔ مجھے ان میں سے دو کی تلاش ہے،
آسٹریلیا کی ایک جھلک تاج یٰسین علی خاں
سفرنامہ حرمین الشریفین نواب لیاقت جنگ
عزیزم غزالہ سے اس سلسلہ میں تعاون کی درخواست کر رہا ہوں۔
No comments:
Post a Comment